الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَبِهِ ﷺ مِفْتَاحَ الْكَعْبَةِ مِنْ عُثْمَانَ بن طَلْحَةَ لِيَدْخُلَهَا وَ مَا فَعَلَهُ بِالْأَصْنَامِ الَّتِي وَضَعَهَا الْمُشْرِكُونَ فِيْهَا وَتَطْهِيرِهَا مِنْ ذَلِكَ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیت اللہ کے اندر جانے کے لیے چابی بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں طلب کرنے اور بیت اللہ کے اندر موجود بتوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10859
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ فَدَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ فَجَاءَ بِهِ فَفَتَحَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُسَامَةُ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ مَلِيًّا ثُمَّ فَتَحُوهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَوَجَدْتُ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ قَائِمًا فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر سوار تھے، آپ اسی طرح مکہ میں داخل ہوئے اور آکر کعبہ کے قریب اونٹنی کو بٹھا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان بن طلحہ کو بلوایا کہ کعبہ کی چابی لے کر آؤ، وہ چابی لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کا دروازہ کھولا اور کعبہ کے اندر داخل ہو گئے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کعبہ میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے کافی دیر تک کعبہ کا دروازہ بند کئے رکھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں قوی نوجوان تھا، میں نے کوشش کی اور لوگوں سے آگے نکل گیا۔ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے پر کھڑے پا کر ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس مقام پر نماز ادا فرمائی ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ آگے والے دو ستونوں کے درمیان، مجھے یہ پوچھنا یاد نہ رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی رکعات ادا کی ہیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10859]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 468، ومسلم: 1329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23922 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24419»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 468
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10859 in Urdu