الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى فِيْ بَيْتِ اللهِ
ان لوگوں کا بیان جو اس بات کے قائل ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی تھی
حدیث نمبر: 10876
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز ادا کی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10876]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21759 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22102»
وضاحت: فوائد: … سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیت اللہ میں نماز کو ثابت کرنا یا اس کی نفی کرنا، اس سلسلے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے، بعض راوی سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے اثبات روایت کرتے ہیں اور بعض ان سے اس کی نفی روایت کرتے ہیں۔
ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز بھی پڑھی اور ذکر اذکار بھی کیا۔
امام نووی نے کہا: محدثین کرام کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ اس معاملے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث کو معتبر اور قابل عمل سمجھا جائے گا، کیونکہ وہ مثبت ہے اور مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے، کیونکہ مثبت کی بنیاد زائد علم پر ہوتی ہے۔ مزید دیکھیں: حدیث نمبر (۴۵۹۳)
ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز بھی پڑھی اور ذکر اذکار بھی کیا۔
امام نووی نے کہا: محدثین کرام کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ اس معاملے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث کو معتبر اور قابل عمل سمجھا جائے گا، کیونکہ وہ مثبت ہے اور مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے، کیونکہ مثبت کی بنیاد زائد علم پر ہوتی ہے۔ مزید دیکھیں: حدیث نمبر (۴۵۹۳)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10876 in Urdu