الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ أَهْلِ مَكَّةَ رِجَالًا وَنِسَاءً وَاسْتِحَضَارِ أَوْلَادِهِمْ لِيَمْسَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمْ
مکہ مکرمہ کے مردوں اور عورتوں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کرنے اور ان کے اپنی اولاد کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لانے کا بیان تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیں
حدیث نمبر: 10893
عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُجَالِدُ بْنُ مَسْعُودٍ يُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ {لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ وَلَكِنْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ}
سیدنا مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ مجالد بن مسعود آپ سے ہجرت کی بیعت کرنا چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے، البتہ میں اس سے اسلام کی بیعت لے لیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10893]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3078، 3079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20684 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20960»
وضاحت: فوائد: … جب تک کفر ہے، اس وقت تک ہجرت کا حکم بھی برقرار ہے، اس حدیث میں جس ہجرت کی نفی کی گئی ہے، اس سے مراد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا ہے، کیونکہ اب مکہ مکرمہ دار الاسلام اور دار الامن بن چکا ہے۔
اس قسم کی احادیث کا معنییہ ہے کہ جس شہر کو مسلمان فتح کر چکے ہوں، اس سے ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
اس قسم کی احادیث کا معنییہ ہے کہ جس شہر کو مسلمان فتح کر چکے ہوں، اس سے ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3078
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10893 in Urdu