🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَرِيَّةِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَدِيمَةَ
سریہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بمقابلہ بنو جزیمہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10896
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي أَحْسِبُهُ قَالَ جَذِيمَةَ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا فَجَعَلُوا يَقُولُونَ صَبَأْنَا صَبَأْنَا وَجَعَلَ خَالِدٌ بِهِمْ أَسْرًا وَقَتْلًا قَالَ وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرًا حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ يَوْمًا أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ قَالَ فَقَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ صَنِيعَ خَالِدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ {اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ} مَرَّتَيْنِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنو جزیمہ کی طرف روانہ کیا، انہوں نے جا کر انہیں اسلام کی دعوت پیش کی، وہ اچھی طرح اَسْلَمْنَا (ہم مسلمان ہیں) نہ کہہ سکے، اس کی بجائے انہوں نے صَبَأْنَا صَبَأْنَا (ہم صابی ہو گئے، صابی ہو گئے) کہا۔ ان کییہ بات سن کر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان میں سے بعض کو قتل اور بعض کو قیدی بنانا شروع کیا اور انہوں نے ایک ایک قیدی کو ہمارے حوالے کیایہاں تک کہ ایک دن صبح ہوئی تو انھوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے ہر آدمی اپنے اپنے قیدی کو قتل کر دے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم! میں تو اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ ہی میرے ساتھیوں میں سے کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ پھر جب صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو انہوں نے خالد رضی اللہ عنہ کی بات کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا،یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر کو اُٹھا کر دو دفعہ فرمایا: یا اللہ! خالد نے جو کچھ کیا ہے، میں اس سے برائت اور لا تعلقی کا اظہار کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10896]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4339، 7189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6382 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6382»
وضاحت: فوائد: … صَبَأْنَا کا معنی ایک دین سے نکل کر دوسرے دین میں داخل ہونا ہے، عرب لوگ نبی کریم کو صابی کہتے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش کے دن کو چھوڑ کر دین اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔
اس لیے ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی موافقت کرنے کے لیے صَبَأْنَا صَبَأْنَا (ہم صابی ہو گئے، صابی ہو گئے) کہا، ان کی مراد یہ تھی کہ جو دین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اختیار کیا، ہم بھی وہی اختیار کرتے ہیں، لیکن اس کے لیے وہ صحیح الفاظ استعمال نہ کر سکے، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ یہ اسلام کی تنقیص کر رہے ہیں اور وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ ارشاد فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے خطا ہو گئی تھی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4339


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10896 in Urdu