🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. بَابُ غَزْوَةِ الطَّائِفِ بِسَبَبٍ مَنْ لَجَأَ إِلَيْهَا وَتَحَصَّنَ بِهَا مِنْ مُشْرِكِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ
اس امر کا بیان کہ غزوۂ طائف ان مشرکین کی وجہ سے پیش آیا جو غزوۂ حنین سے جان بچا کر بھاگ گئے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10913
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدَانِ فَأَعْتَقَهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بَكْرَةَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْتِقُ الْعَبِيدَ إِذَا خَرَجُوا إِلَيْهِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ طائف کا محاصرہ کیا تو ان میں سے دو غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آملے، ان میں سے ایک کا نام ابو بکرہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو آزاد کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِ مبارکہ یہی تھی کہ جب دشمن کی طرف سے کوئی غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آ ملتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو آزاد فرما دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10913]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابويعلي: 2564، والطبراني: 12079، والبيھقي: 9/ 229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2176 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2176»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی وجۂ کنیتیہ ہے کہ وہ قلعہ کی دیوار پر چڑھ کر ایک چرخی کی مدد سے، جس کے ذریعے رہٹ سے پانی کھینچا جاتا ہے، لٹک کر نیچے آ گئے، جبکہ عربی میں چرخی کو بَکْرَۃ کہتے ہیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی کنیت ابو بکرہ رکھ دی۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10913 in Urdu