الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ تَقْسِيمِ غَنَائِمِ حُنَيْنِ بِالْجِعْرَانَةِ وَمَجِيءِ وَفْدِ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ وَاسْتِعْطَافِهِمْ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي أَخْذِ سَبَايَاهُمْ وَأَمْوَالِهِمْ
جعرانہ کے مقام پر حنین کی غنیمتوں کی تقسیم، بنو ہوازن کے وفد کی مسلمان ہو کر آمد اور ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے قیدیوں اور اموال کی واپسی کی درخواست کا بیان
حدیث نمبر: 10917
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ فَمَا زَالَ يُعْطِينِي حَتَّى صَارَ وَإِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ بغض تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کے دن مجھے مالِ غنیمت میں سے حصہ دیا اور مجھے برابر عنایت فرماتے رہے تاآنکہ وہ میری نظروں میں سب لوگوں سے زیادہ محبوب ٹھہرے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة/حدیث: 10917]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2313، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15378»
وضاحت: فوائد: … صفون بن امیہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حنین میں شریک ہوئے تھے، جبکہ وہ کافر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تالیف قلبی کے لیے ان کو بہت سارا مال و دولت عطا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد پورا ہو گیا اور یہ مسلمان ہو گئے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2313
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10917 in Urdu