🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابٌ فِي ذِكْرِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ لِعُذْرٍ
ان حضرات کا تذکرہ جو عذر کی بنا پر غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10942
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قُلْتُ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ وَأَنَا أَهَابُكَ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْهُ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ عِنْدِي عِلْمًا فَسَلْنِي عَنْهُ وَلَا تَهَبْنِي قَالَ فَقُلْتُ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ خَلَّفَهُ بِالْمَدِينَةِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ سَعْدٌ خَلَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا بِالْمَدِينَةِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُخَلِّفُنِي فِي الْخَالِفَةِ فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ ”أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟“ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَدْبَرَ عَلِيٌّ مُسْرِعًا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى غُبَارِ قَدَمَيْهِ يَسْطَعُ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ فَرَجَعَ عَلِيٌّ مُسْرِعًا
سعید بن مسبب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں، لیکن آپ سے پوچھتے ہوئے ڈرتا بھی ہوں۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! ایسا نہ کرو، جب تم جانتے ہو کہ میرے پاس کسی بات کا علم ہے تو مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، پوچھو، میں نے کہا: غزوۂ تبوک کے موقع پر جب اللہ کے رسول سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنے پیچھے چھوڑ کر جا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے مدینہ منورہ میں چھوڑنے کا اظہار فرمایا تو انہوں نے عرض کیا: کیا آپ مجھے یہاں غزوہ سے پیچھے رہ جانے والی عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہو جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کو تھی؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ٹھیک ہے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ یوںتیزی سے واپس ہوئے کہ گویا میں ان کے قدموں سے اُڑنے والے غبار کو اب بھی دیکھ رہا ہوں، دوسری روایت میں ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ جلدی جلدی واپس لوٹ گئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10942]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1490»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے موقع پرمدینہ کا انتظام سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو سونپا اور بال بچوں پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2404


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10942 in Urdu