الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ وَفَاةِ النَّجَاشِيُّ الرَّجُلِ الصَّالِحِ وَهَلَاكِ عَبْدِ الله بن أبي الْمُنَافِقِ الطَّالِح
نیک مرد نجاشی کی وفات اور بدبخت شخص عبداللہ بن ابی کی ہلاکت کا بیان
حدیث نمبر: 10953
عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَتَى ابْنُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ إِنْ لَمْ تَأْتِهِ لَمْ نَزَلْ نُعَيَّرُ بِهَذَا فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُ قَدْ أُدْخِلَ فِي حُفْرَتِهِ فَقَالَ أَفَلَا قَبْلَ أَنْ تُدْخِلُوهُ فَأُخْرِجَ مِنْ حُفْرَتِهِ فَتَفَلَ عَلَيْهِ مِنْ قَرْنِهِ إِلَى قَدَمِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب عبداللہ بن ابی کی وفات ہوئی تو اس کے بیٹے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ میرے والد کی نماز جنازہ کے لیے تشریف نہ لائے تو ہمیں ہمیشہ کے لیے اس کی عار دلائی جاتیرہے گی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے اور دیکھا کہ اسے قبر کے اندر رکھا جا چکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے قبر میں رکھنے سے پہلے مجھے کیوں نہیں بلا لیا۔ پھر اسے اس کی قبر سے نکالا گیا، آپ نے اس کے سر سے قدم تک اپنا لعاب مبارک لگایا، اور اسے اپنی قمیض پہنائی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10953]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1270، 1350، 5795، ومسلم: 2773، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15049»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1270
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10953 in Urdu