الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي قُدُوْم جَرِيرِ بن عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عنه إِلَى الْمَدِينَةِ وَبَيْعَتِهِ وَإِسْلَامِهِ
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ آمد، ان کی بیعت اور قبولِ اسلام کا واقعہ
حدیث نمبر: 10963
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ وَقَالَ جَرِيرٌ لَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي ثُمَّ حَلَلْتُ عَيْبَتِي ثُمَّ لَبِسْتُ حُلَّتِي ثُمَّ دَخَلْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ فَقُلْتُ لِجَلِيسِي يَا عَبْدَ اللَّهِ ذَكَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ ذَكَرَكَ آنِفًا بِأَحْسَنِ ذِكْرٍ فَبَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ وَقَالَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ إِلَّا أَنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةَ مَلَكٍ قَالَ جَرِيرٌ فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَبْلَانِي وَقَالَ أَبُو قَطَنٍ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْهُ أَوْ سَمِعْتَهُ مِنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ نَعَمْ
مغیرہ بن شبل سے مروی ہے کہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب میں مدینہ منورہ کے قریب آیا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھا کر اپنا سامان کھول کر ایک طرف رکھ کر شان دار لباس زیب تن کیا اور میں مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، لوگوں نے میری طرف تیز نظروں سے دیکھا، میں نے اپنے قریب بیٹھے آدمی سے دریافت کیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یاد کیا ہے؟ اس نے بتایا: جی ہاں، آپ نے ابھی ابھی بڑے خوبصورت الفاظ سے تمہیںیاد کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، دورانِ خطبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارا ذکرکیا اور فرمایا کہ اس دروازے سے یا اس راستے سے تمہارے پاس فضلائے اہلِ یمن میں سے ایک آدمی داخل ہونے والا ہے، اس کے چہرے سے بادشاہوں کی سی شان جھلکتی ہے۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے اپنے اس اعزاز پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة العاشرة للهجرة/حدیث: 10963]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي في الكبري: 8304، وابن حبان: 7199، والحاكم: 1/ 285، والبيھقي: 3/ 222. ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19394»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جریر مشاہیر صحابہ میں سے ہیں، ان کے قبیلہ بجلیہ اور خثعم کا ایک بت اور ایک بہت بڑا بت خانہ تھا، جسے ذوالخلصہ کہتے ہیں، وہ اس سے خانہ کعبہ کی ہمسری کرتے تھے، اسی لیے وہ کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے اور اپنے بت خانہ کو کعبہ یمانیہ کہتے تھے۔
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے ذوالخلصہ کو ویران کر دیا، اس کا ذکر اگلے باب میں آ رہا ہے۔
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے ذوالخلصہ کو ویران کر دیا، اس کا ذکر اگلے باب میں آ رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10963 in Urdu