الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا حَدِيثُ عَائِشَةَ رضي الله عنها الْجَامِعُ مِنْ أَوَّلِ مَرَضِهِ إِلَى وَفَاتِهِ ﷺ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی جامع حدیث
حدیث نمبر: 10979
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ رَجَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جَنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي وَأَنَا أَقُولُ وَا رَأْسَاهْ قَالَ بَلْ أَنَا وَا رَأْسَاهْ قَالَ مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ ثُمَّ صَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ قُلْتُ لَكِنِّي أَوْ لَكَأَنِّي بِكَ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَقَدْ رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ قَالَتْ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بُدِئَ بِوَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ
۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن البقیع قبرستان میں نماز جنازہ پڑھا کر واپس میرے ہاں تشریف لائے، میرے سر میں درد تھا اور میںیوں کہہ رہی تھی: ہائے میرا سر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نہ کہو، بلکہ(میں کہتا ہوں) ہائے میرا سر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہو جاؤ تو تمہیں کوئی ضرر نہیں، میں خود تمہیں غسل دے کر کفن پہنا کر، تمہاری نماز جنازہ پڑھا کر تمہیں دفن کروں گا۔ میں نے کہہ دیا: اللہ کی قسم! آپ یہ سارے کام کرنے کے بعد میرے ہی گھر آکر اسی گھر میں اپنی کسی بھی زوجہ کے ساتھ شب باشی کریں گے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دئیے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت کا آغاز ہو گیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10979]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه البخاري: 5666، 7217، ومسلم: 2387، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26433»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بیوی اور خاوند ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10979 in Urdu