🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب ما جاء فى انتقاله إلى بيت عائشة رضي الله عنها ليمرض فيه واستخلافه آبا بكر للصلاة
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10982
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَسَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ دَعَا بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ فَقَالَ ”مُرُوا مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ قَالَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا فَقَالَ قُمْ يَا عُمَرُ فَصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَ فَقَامَ فَلَمَّا كَبَّرَ عُمَرُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ وَكَانَ عُمَرُ رَجُلًا مُجْهِرًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَأَيْنَ أَبُو بَكْرٍ؟ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ“ قَالَ فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ قَالَ لِي عُمَرُ وَيْحَكَ مَاذَا صَنَعْتَ بِي يَا ابْنَ زَمْعَةَ وَاللَّهِ مَا ظَنَنْتُ حِينَ أَمَرْتَنِي إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا صَلَّيْتُ بِالنَّاسِ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حِينَ لَمْ أَرَ أَبَا بَكْرٍ رَأَيْتُكَ أَحَقَّ مَنْ حَضَرَ بِالصَّلَاةِ
سیدنا عبداللہ بن زمعہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو میں چند دیگر مسلمانوں کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان کہی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی سے کہو کہ وہ نماز پڑھا دے۔ میں باہر نکلا تو سیدناعمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں موجود تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود نہیں تھے، میں نے عرض کیا: عمر! آپ اُٹھ کر نماز پڑھا دیں۔ وہ اُٹھے انہوں نے تکبیر تحریمہ کہی، ان کی آواز بہت بلند تھی، اس لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آواز سنی توفرمایا: ابوبکر کہاں ہیں؟اللہ اور اہل اسلام ابوبکر کی بجائے کسی دوسرے کو قبول نہیں کریں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، لیکن جب وہ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ نماز پڑھا چکے تھے۔ پھر انہوں نے آکر لوگوں کو باقی نمازیں پڑھائیں۔ سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے ابن زمعہ! تمہارا بھلا ہو، تم نے میرے ساتھ کیا کیا؟ اللہ کی قسم! تم نے جب مجھے نماز پڑھانے کو کہا تو میں یہی سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی تمہیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ مجھے کہا جائے، اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں لوگوں کو نماز نہ پڑھاتا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو واقعی مجھے یہ حکم نہیں دیا تھا، لیکن جب مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ دکھائی نہیں دیے تو میں نے حاضر لوگوں میں سے آپ کو امامت کا سب سے زیادہ حق دار سمجھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10982]
تخریج الحدیث: «حسن صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4660، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19113»

الحكم على الحديث: حسن صحيح


Al-Fath al-Rabbani Hadith 10982 in Urdu