الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي انْتِقَالِهِ إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ رضي الله عنها لِيُمَرَّضَ فِيهِ وَاسْتِخْلافِهِ آبَا بَكْرِ لِلصَّلَاةِ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا
حدیث نمبر: 10989
عَنْ أَنَسٍ وَالْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُتَوَكِّئًا عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلَيْهِ ثَوْبُ قُطْنٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا آسرا لے کر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سوتی کپڑا زیب تن کئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے دونوں پلوں کو آگے پیچھے ڈالا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جا کر نماز پڑھائی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10989]
تخریج الحدیث: «اسناد حديث انس صحيح علي شرط مسلم، وحديث الحسن مرسل، أخرجه الطيالسي: 2140، وابن حبان: 2335، والترمذي في الشمائل: 127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13544»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں ثَوْبُ قُطْن کے الفاظ ہیں، جبکہ مسند طیالسی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَصَلَّی بِالنَّاِس فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثَوْبٍ قِطْرِیٍّ (بحرین کے علاقے قِطْرٌ کی طرف نسبت ہے)۔ اوریہی الفاظ راجح معلوم ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناد حديث انس صحيح علي شرط مسلم
Al-Fath al-Rabbani Hadith 10989 in Urdu