الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب ما جاء فى تأثير وفاته على أصحابه وال بيته ودهشتهم عند قبض روحه وبكاء هم لذلك وتقبيل أبى بكر إياه بعد موته ﷺ
صحابہ کرام اور اہل بیت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا اثر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض ہونے پر ان کے دہشت زدہ ہونے، رونے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 11038
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ يَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرِيلَ أَنْعَاهُ يَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا روتے ہوئے یوں کہہ رہی تھی: اے میرے ابا جان! آپ اپنے رب کے کس قدر قریب پہنچ گئے، اے میرے ابا جان! میں جبریل کو آپ کی موت کی خبر دوں گی، اے میرے ابا جان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11038]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4462، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13031 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13062»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4462
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11038 in Urdu