الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب ما جاء فى تأثير وفاته على أصحابه وال بيته ودهشتهم عند قبض روحه وبكاء هم لذلك وتقبيل أبى بكر إياه بعد موته ﷺ
صحابہ کرام اور اہل بیت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا اثر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض ہونے پر ان کے دہشت زدہ ہونے، رونے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 11040
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَفِي دَوْلَتِي لَمْ أَظْلِمْ فِيهِ أَحَدًا فَمِنْ سَفَهِي وَحَدَاثَةِ سِنِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَهُوَ فِي حِجْرِي ثُمَّ وَضَعْتُ رَأْسَهُ عَلَى وِسَادَةٍ وَقُمْتُ أَلْتَدِمُ مَعَ النِّسَاءِ وَأَضْرِبُ وَجْهِي
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،انھوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال میری گردن اور سینے کے درمیان میری ہی باری کے دن ہوا، میں نے اس دن کسی سے کچھ بھی زیادتی نہیں کی،یہ میری نا سمجھی اور نو عمری تھی کہ میری گود میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک تکیہ پر رکھ دیا اور میں عورتوں کے ساتھ مل کر رونے لگی اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11040]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 4586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26880»
وضاحت: فوائد: … چہرے پر ہاتھ مارنے سے مراد پیٹنا نہیں ہے، دوسرے صحابۂ کرام کی طرح غمزدہ ہونے کے علاوہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بعض خصوصی چیزیں ان کے غم میں اضافہ کر رہی تھیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے زیادہ محبوب بیوی تھیں اور ابھی تک وہ اٹھارہ برس کی تھیں، اس لیے وہ شدت ِ غم میں مبتلا ہو گئیں اور اس کیفیت میں انھوں نے اپنے ہاتھ اپنے چہرے سے اس طرح مسّ کیے ہوں گے کہ یہ ممنوعہ صورت نہیںبنتی۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11040 in Urdu