الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب ما جاء فى الصلاة عليه ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ کا بیان
حدیث نمبر: 11052
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ عَنْ أَبِي عَسِيبٍ أَوْ أَبِي عَسِيمٍ قَالَ بَهْزٌ إِنَّهُ شَهِدَ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ قَالَ ادْخُلُوا أَرْسَالًا أَرْسَالًا قَالَ فَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنْ هَذَا الْبَابِ فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنَ الْبَابِ الْآخَرِ قَالَ فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُغِيرَةُ قَدْ بَقِيَ مِنْ رِجْلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يُصْلِحُوهُ قَالُوا فَادْخُلْ فَأَصْلِحْهُ فَدَخَلَ وَأَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَّ قَدَمَيْهِ فَقَالَ أَهِيلُوا عَلَيَّ التُّرَابَ فَأَهَالُوا عَلَيْهِ التُّرَابَ حَتَّى بَلَغَ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَكَانَ يَقُولُ أَنَا أَحْدَثُكُمْ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابو عسیبیا ابو عسیم رضی اللہ عنہ،جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ کے موقع پر حاضر تھے، بیان کرتے ہیں: صحابہ کہنے لگے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز کیسے پڑھیں، انھوں نے کہا: تم گروہوں کی صورت میں اندر جاؤ، سو وہ اس دروازے سے داخل ہوتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ادا کرتے اور پھر دوسرے دروازے سے باہر چلے جاتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لحد میں رکھ دیا گیا، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں کی جانب کچھ جگہ قابلِ اصلاح رہ گئی ہے، صحابہ نے ان سے کہا: تم لحد میں داخل ہو کر اسے ٹھیک کر آؤ، وہ اندر گئے، اپنا ہاتھ اندر داخل کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک کو مس کیا اور ساتھ ہی کہا کہ تم میرے اوپر مٹی ڈال دو، صحابہ نے ان کے اوپر مٹی ڈال دی،یہاں تک کہ ان کی نصف پنڈلیوں تک مٹیآگئی، اس کے بعد وہ باہر آگئے، وہ کہا کرتے تھے تم سب کی نسبت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے آخر میں مس کرنے کا اعزاز حاصل کر چکا ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11052]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21047»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے شروع میں جس نماز کا ذکر ہے، اس کو نمازِ جنازہ پر ہی محمول کرنا چاہیے، نہ کہ درود اور دعائے رحمت کرنے پر، کیونکہ میت کے ساتھ جب صَلّٰییُصَلِّی کے الفاظ آتے ہیں تو ان کے شرعی اور متبادر الی الذہن معانی نماز جنازہ کے ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11052 in Urdu