🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ مَا جَاءَ فِي دَفْنِهِ وَقَبْرِهِ وَتَغْسِيرِ الْحَالِ بَعْدَ مَوْتِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر اور بعد از وفات حالات کی تبدیلی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11058
(وَعَنْهَا أَيْضًا) قَالَتْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَدُفِنَ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سوموار کے دن ہوئی تھی اور تدفین بدھ کی رات کو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11058]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين أخرجه الطبراني في الاوسط: 4300، ومالك في المؤطائ: 1/ 231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24790 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25300»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوشنبہ کے دن، ۱۲ ربیع الاول سنہ ۱۱ ہجری کو وفات پائی، اس حادثۂ دل فگار کی خبر صحابۂ کرام میں فوراً پھیل گئی اور ان پر دنیا تاریک ہو گئی اور قریب تھا کہ وہ اپنے حواس کھو بیٹھتے، اُدھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر مسجد میں یہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تک وفات نہیں پائیں گے، جب تک کہ اللہ تعالیٰ منافقین کو فنا نہ کر دے اور اس شخص کو کاٹنے اور قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے جو یہ کہے کہ آپ وفات پا گئے ہیں، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک ہلکی سی تقریر کی، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر دلالت کرنے والی آیات تلاوت کیں، حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا فیصلہ قبول کر لیا، پھر خلافت اور جانشینی کا مسئلہ کھڑا ہو گیا، مختلف دھڑوں میں اس موضوع پر بحث و گفتگو ہونے لگی اور سقیفہ بنی ساعدہ میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی گئی۔ اس قسم کے حالات کی وجہ سے سوموار کا باقی دن اور منگل کی رات گزر گئی، منگل کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑے اتارے بغیر غسل دیا گیا، بیچ میں قبر کھودنے کا مسئلہ بھی پیش آیا اور اس کو حل کیا گیا، جیسا کہ پچھلی احادیث میں بیان ہو چکا ہے، تجہیز و تکفین کے بعد صحابۂ کرام مختلف ٹولیوں کی صورت میں نماز جنازہ ادا کرتے رہے، یہاں تک کہ منگل کا پورا دن اور بدھ کی بیشتر رات گزر گئی اور اسی رات کے اواخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد پاک کو سپردِ خاک کیا گیا۔

الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين أخرجه الطبراني في الاوسط : 4300


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11058 in Urdu