الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب ما جاء فى دفنه وقبره وتغسير الحال بعد موته
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر اور بعد از وفات حالات کی تبدیلی کا بیان
حدیث نمبر: 11061
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنَ الْمَدِينَةِ كُلُّ شَيْءٍ فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَظْلَمَ مِنَ الْمَدِينَةِ كُلُّ شَيْءٍ وَمَا فَرَغْنَا مِنْ دَفْنِهِ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تھے، مدینہ منورہ کی ہر چیز روشن ہو گئی، لیکن جس روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو،ا اس دن مدینہ منورہ کی ہر چیز پر اندھیرا چھایا ہوا تھا اور ہم ابھی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم نے اپنے دلوں میں تبدیلی محسوس کی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11061]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح أخرجه ابن ماجه: 1631، والترمذي: 3618، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13345»
وضاحت: فوائد: … عہد ِ نبوی اس جہاں کا سنہری دور تھا، وہ زمانہ للہیت، خیر و بھلائی، پاس و لحاظ، الفت و محبت، صفائے قلب اور اعمال صالحہ کی کثرت جیسی صفات سے متصف تھا، ہمارے لیے تو صحابۂ کرام کا زمانہ بھی انتہائی بابرکت ہے، لیکن عہد ِ نبوی کی بہ نسبت اس میں تغیر پیدا ہو گیا تھا، جس کو صحابۂ کرام نے محسوس بھی کیا، کہتے ہیں کہ بڑوں پہ بڑے بھاری، زمانے کو جو برکت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود سے ملی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں ہوں گے تو وہ کیسے برقرار رہے گی۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح أخرجه ابن ماجه: 1631
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11061 in Urdu