🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُخْلَفَاتِهِ ﷺ وَمِیْرَاثِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ترکہ اور میراث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11080
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَشَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا بَيْنَ هَذَيْنِ اللَّوْحَيْنِ وَدَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ وَكَانَ الْمُخْتَارُ يَقُولُ الْوَحْيُ
عبدالعزیز بن رُفیع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور شداد بن معقل ہم دونوں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف یہ چیز چھوڑ کر گئے ہیں جو ان دو گتوں کے درمیان ہے۔ (یعنی قرآن کریم) اور ہم محمد بن علی کی خدمت میں گئے تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا، عبدالعزیز نے کہا کہ مختار بن ثقفی کہا کرتا تھا کہ اس کی طرف وحی نازل ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11080]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5019، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1909 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1909»
وضاحت: فوائد: … امام بخاری نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: بَابُ مَنْ قَالَ: لَمْ یَتْرُکِ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِلَا بَیْنَ الدَّفَّتَیْنِ (اس آدمی کا بیان کہ جس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ نہیں چھوڑا، مگر وہ چیز جو دو گتوں کے درمیان ہے)
حافظ ابن حجر نے کہا: دراصل یہ باب ان لوگوں پر ردّ ہے، جن کا نظریہیہ ہے کہ حاملین قرآن کی شہادت اور موت کی وجہ سے قرآن مجید کا بہت زیادہ حصہ ضائع ہو گیا، جبکہ یہ ایسا نظریہ ہے، جو رافضیوں نے گھڑا، تاکہ وہ اپنے اس دعوی کو سچا ثابت کر سکیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت یہ بات مسلم تھی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو امامت و خلافت ملے گی اور یہ حقیقت قرآن مجید میں بھی موجود تھی، لیکن صحابہ نے اس کو چھپا لیا،یہ ایک باطل دعوی ہے، کیونکہ صحابہ نے کچھ نہیں چھپایا۔ (فتح الباری)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5019


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11080 in Urdu