الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء فى صفة خلقه، وتناس أعضائه، واستواء أجزائه وما جمع الله فيه من الكمالات
آپ کے جسد اطہر، اعضاء کے تناسب و درستی اور آپ کے دیگر کمالات کا تذکرہ جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا
حدیث نمبر: 11127
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا وَكُنْتُ إِذَا رَأَيْتُهُ قُلْتُ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پنڈلیاں دوسرے اعضا کے مطابق مناسب حد تک باریک تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھلکھلا کر نہیں ہنستے تھے، بلکہ صرف مسکراتے تھے۔ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتاتویوں محسوس ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنکھوں میں سرمہ ڈالا ہوا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرمہ نہ ڈالا ہوتا تھا۔ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں قدرتی طور پر سرمگیں تھیں)۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11127]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحجاج بن ارطاة مدلس وقد عنعن، اخرجه الترمذي: 3645، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20917 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21224»
الحكم على الحديث: ضعیف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11127 in Urdu