الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب مَا جَاءَ فِي ضِحْكِهِ ﷺ وَرِيحِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسکراہٹ اور خوشبو کا بیان
حدیث نمبر: 11162
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطُّ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا قَالَ مُعَاوِيَةُ ضَحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ وَقَالَتْ كَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةَ قَالَتْ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَا يُؤْمِنِّي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا [الأحقاف: 24]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گلے کا کوا دیکھ سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف زیر لب مسکراتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بادلوں یا ہوا کو دیکھتے تو اس کے اثرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ پر نمایاں ہو جاتے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشان ہو جاتے)، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ تو بادل یا ہوا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، کیونکہ انہیں بارش کے آنے کی امید ہوتی ہے،لیکن اس کے برعکس میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ کے چہرے پر تشویس کے آثار نظر آنے لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! مجھے اس سے کیا امن ہے کہ اس میں عذاب ہو، جبکہ ایک قوم (یعنی قوم ِ عاد) کو ہوا ہی کے ذریعہ ہلاک کیا گیا اوراس قوم کی نظر تو عذاب پر پڑ رہی تھی، لیکن وہ(ظاہری بادل کو دیکھ کر) کہہ رہے تھے: یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسانے والا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11162]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4828، 4829، ومسلم: 899، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24873»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4828
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11162 in Urdu