الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب ما جاء فى خلقه العظيم عليه أفضل الصلاة وأتم التسليم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم اخلاق کا بیان
حدیث نمبر: 11176
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَّاسُ مُقْبِلًا مِنْ حُنَيْنٍ عَلِقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أَعْطُونِي رِدَائِي فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا كَذَّابًا وَلَا جَبَانًا
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ چلے جا رہے تھے، یہ حنین سے واپسی کا واقعہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ کچھ دوسرے لوگ بھی تھے، اسی دوران دیہاتی لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آ چمٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مال مانگنے لگے اور آپ کو زور سے (کیکریا ببول کے) ایک خاردار درخت کی طرف کھینچے لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر اتر گئی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے اور فرمایا: میری چادر تو مجھے دے دو، اگر ان کانٹوں کے برابر بھی جانور ہوتے تو میں ان کو تقسیم کر دیتا پھر تم مجھے بخیل، جھوٹا یا بزدل نہیں پاؤ گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11176]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3148، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16756 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16878»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3148
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11176 in Urdu