الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب ما جاء فى خلقه العظيم عليه أفضل الصلاة وأتم التسليم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم اخلاق کا بیان
حدیث نمبر: 11178
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ لِابْنِ الزُّبَيْرِ أَتَذْكُرُ إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَحَمَلَنَا وَتَرَكَكَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً أَتَذْكُرُ إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ نَعَمْ فَحَمَلَنَا وَتَرَكَكَ
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تمہیںیاد ہے کہ جب میں، آپ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، ہم تینوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جا کر ملے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں یا د ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سواری پر اپنے ساتھ سوار کر لیا تھا اور تمہیں رہنے دیاتھا۔امام احمد کے شیخ اسمعیل بن علیہ نے ایک دفعہ یوں روایت کیا: کیا تمہیںیاد ہے جب میں، آپ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ آگے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملے تھے؟ انہوں نے کہاں! جی ہاں یاد ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اپنے ساتھ سوار کر لیا تھا اور تمہیں چھوڑ دیا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11178]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3082،ومسلم: 2427، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1742»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3082
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11178 in Urdu