🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب ما جاء فى تواضعه ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11185
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا وَيَا خَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا بِقَوْلِكُمْ وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَا رَفَعَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہو کرکہا: اے ہمارے سردار! اور اے ہمارے سردار کے فرزند! اے وہ ذات جو ہم میں سب سے بہتر ہے اور ہم میں سے سب سے افضل کی اولاد ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: لوگو! تم معروف بات ہی کر لیا کرو اور ہر گز شیطان تمہیں غلو میں مبتلا نہ کردے، میں محمد بن عبداللہ اور اللہ کا رسول ہوں، اللہ کی قسم! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو مقام دیا ہے، تم مجھے اس سے اوپر لے جاؤ۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11185]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابن حبان: 6240، والنسائي في عمل اليوم والليلة: 248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13529 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13563»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے معروف بات یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں، جیسا کہ خطبے، تشہد اور کلمۂ شہادت میں اس چیز کا اعتراف کیا جاتا ہے۔
تواضع کا مطلب ہے، ایک دوسرے کے ساتھ عاجزی وانکساری، نرمی و رحمدلی اور محبت و الفت سے پیش آنا، حسب و نسب یا مال و دولت کی بنیاد پر کسی کو حقیر نہ سمجھنا اور نہ کسی پر ظلم و زیادتی کرنا۔وجہ یہ ہے اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو مقام و مرتبہ، مال و دولت حسب و نسب جیسی صلاحیتوں سے نوازا ہے، تو اس کو اس پراللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے، کیونکہ ان انعامات کے حصول میں اس کی صلاحتیں کارفرما نہیں ہیں، بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے احسان کا نتیجہ ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان اس کے لیے مضرّ ثابت ہو اس طرح کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو بنظر حقارت دیکھےیا ان پر ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رفعت و منزلت اور عظمت و مرتبت کے انتہائی اعلی مراتب پر فائز تھے، کسی امتی کا آپ سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا: {وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ} (سورۂ شعرائ: ۲۱۵) … (اے محمد!) اپنے پیروکار مومنوں سے نرمی سے پیش آؤ۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11185 in Urdu