الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَوَاضُعِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع کا بیان
حدیث نمبر: 11199
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ إِنَّهُ أَتَى الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَقُلْتُ لِأَيِّ شَيْءٍ تَصْنَعُونَ هَذَا قَالُوا هَذَا كَانَ تَحِيَّةَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَنَا فَقُلْتُ نَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ هَذَا بِنَبِيِّنَا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُمْ كَذَبُوا عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ كَمَا حَرَّفُوا كِتَابَهُمْ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَنَا خَيْرًا مِنْ ذَلِكَ السَّلَامَ تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ ارض شام میں گئے (اس سے آگے گزشتہ حدیث کی طرح ہے) یہ کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا تم اپنے ان پیشواؤں کو سجدے کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے بتلایا کہ ہم سے پہلے انبیاء (کی شریعتوں) میں سلام کا یہی طریقہ تھا۔ تو میں نے کہا (اگر بات یہی ہے) تو ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم اپنے نبی کے ساتھ یہ کام کریں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے جس طرح اپنی مذہبی کتابوں میں تحریف کی، اسی طرح اپنے انبیاء پر جھوٹ باندھے، بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے سلام سے بہتر سلام، اہل جنت والا سلام ہمیں دیا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11199]
تخریج الحدیث: «حديث جيّد دون قوله: انھم كذبوا علي انبيائھم الي آخر الحديث۔ وھذا اسناد ضعيف لاضطرابه، اخرجه البزار: 1461، والحاكم: 4/ 172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19624»
الحكم على الحديث:
حديث جيّد دون قوله: انھم كذبوا علي انبيائھم الي آخر الحديث۔ وھذا اسناد ضعيف لاضطرابه
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11199 in Urdu