🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَمِهِ وَسَخَائِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11222
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ جَعَلَ لَهُ قَالَ عَفَّانُ يَجْعَلُ لَهُ مِنْ مَالِهِ النَّخَلاتِ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ قَالَ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ الَّذِي كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ قَالَ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِيهِنَّ فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي وَجَعَلَتْ تَقُولُ كَلَّا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَا يُعْطِيكَهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ أَوْ كَمَا قَالَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَكِ كَذَا وَكَذَا“ وَتَقُولُ كَلَّا وَاللَّهِ قَالَ وَيَقُولُ ”لَكِ كَذَا وَكَذَا“ قَالَ حَتَّى أَعْطَاهَا فَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ ”عَشْرَ أَمْثَالِهَا“ أَوْ قَالَ ”قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهَا“ أَوْ كَمَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کوئی آدمی اپنے باغات میں سے حسب توفیق کھجوروں کے کچھ درخت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مخصوص کر دیا کرتا تھا یہاں تک کہ بنو قریظہ اور بنو نصیر پر فتح پا لی گئی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو ان کی طرف سے دی گئی کھجوریں لوٹانے لگے، میرے گھر والوں نے بھی مجھ سے کہا کہ انہوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھجوریں دی ہوئی ہیں، وہ سب یا ان میں سے کچھ واپس مانگوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کھجوریں ام ایمن رضی اللہ عنہا کو یا کسی دوسرے کو دے چکے تھے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھجوروں کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وہ کھجوریں دے دیں۔ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا میرے پاس آئیں اور انہوں نے میری گردن میں کپڑا ڈال دیا اور بولیں: ہر گز نہیں، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! اللہ کے نبی وہ کھجوریں مجھے دے چکے ہیں، اب وہ تمہیں نہ دیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں آپ کو اس کے عوض اتنی اتنی کھجوریں دے دیتا ہوں۔ وہ کہنے لگیں: اللہ کی قسم! ہر گز نہیں، آپ فرماتے رہے کہ میں تمہیں مزید اتنی کھجوریں دیتا ہوں۔ یہاں تک کہ آپ نے ان کو وہ دے دیں، معتمر کے والد سلیمان بن طرخان کا بیان ہے کہ میں نے شمار کیا تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصل تعداد سے دس گنا زائد یا اس کے قریب قریب فرمایا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11222]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3128، 4030، ومسلم: 1771، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13324»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3128


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11222 in Urdu