الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَمِهِ وَسَخَائِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت کا بیان
حدیث نمبر: 11231
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَتَى الرَّجُلُ قَوْمَهُ فَقَالَ أَيْ قَوْمِي أَسْلِمُوا فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطِيَّةَ رَجُلٍ مَا يَخَافُ الْفَاقَةَ أَوْ قَالَ الْفَقْرَ قَالَ وَحَدَّثَنَاهُ ثَابِتٌ قَالَ قَالَ أَنَسٌ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا أَنْ يُصِيبَ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا أَوْ قَالَ دُنْيَا يُصِيبُهَا فَمَا يُمْسِي مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَوْ قَالَ أَكْبَرَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کچھ مانگنے کے لیے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دوپہاڑوں کے درمیان وادی میں جتنی بکریاں تھیں، وہ سب اس کو دے دیں، اس نے اپنی قوم سے جا کر کہا: اے میری قوم! اسلام قبول کر لو، اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس قدر عطا فرماتے ہیں کہ وہ فقر و فاقہ کی بھی پروا نہیں کرتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کوئی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مسلمان ہونے آتا اور اس کا مقصد حصول دنیا ہی ہوتا، شام ہونے سے پہلے پہلے دین اس کی نظر میں دنیا بھر کی دولت سے بھی بڑھ کر عزیز تر اور محبوب تر ہو جاتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11231]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2312، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12790 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12821»
وضاحت: فوائد: … اس آدمی کا مقصد یہ تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین میں سخاوت، سماحت، انس اور تالیف قلبی ہے، اس لیےیہی دین اختیار کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2312
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11231 in Urdu