🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي عِنَايَةِ اللَّهِ بِهِ وَحِفْظِهِ مِنْ نَقْصٍ الْجَاهِلِيَّةِ وَعِبَادَةِ الْأَصْنَامِ
اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمیشہ جاہلیت کے عیوب اور بتوں کی عبادت سے محفوظ رکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11244
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ كَانَ الْعَبَّاسُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْ إِزَارَكَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَلَى رَقَبَتِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَامَ فَقَالَ ”إِزَارِي إِزَارِي“ فَقَامَ فَشَدَّهُ عَلَيْهِ (وَفِي لَفْظٍ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا)
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب (قبل از نبوت) کعبہ کی تعمیر کی گئی تو عباس رضی اللہ عنہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پتھر لانے لگے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ پتھروں کی تکلیف سے بچنے کے لیے تہبند اتار کر گردن پر رکھ لیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بات مان لی، لیکن ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اورفرمایا: میری چادر، میری چادر مجھے دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور چادر باندھ لی۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: آپ بے ہوش ہو کر گر پڑے، اس کے بعد کبھی بھی آپ کوبرہنہ حالت میںنہیں دیکھا گیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11244]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1582،ومسلم: 340، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14187»
وضاحت: فوائد: … طبرانی اور بزار کی روایات کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنا ازار لیا اور فرمایا: مجھے ننگا چلنے سے منع کیا گیا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس ڈر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کو چھپاتا تھا کہ کہیں لوگ یہ کہہ دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجنون ہیں،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کو ظاہر کر دیا۔
یہ روایت مسند بزار (۱۲۹۵) اور بیہقی کی دلائل النبوہ (ج۲، ص ۳۳) میں عباس بن عبدالمطلب سے مروی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجھے ننگا چلنے سے روکا گیا ہے والی بات چھپانے والے عباس رضی اللہ عنہ ہیں، جابر رضی اللہ عنہ نہیں۔ جابر انصاری صحابی ہیں بنیانِ کعبہ میں عباس شامل تھے، جابر نہیں۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1582


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11244 in Urdu