🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ شِفَاءُ الْمَرْضَى بِبَرَكَتِهِ وَشَكْوَى الْجَمَلِ إِلَيْهِ وَانْتِقَالِ الشَّجَرِ مِنْ مَكَانِهِ لِلسَّلَامِ عَلَيْهُ وَانْقِيَادِهِ لأَمْرِهِ ﷺ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے مریضوں کی شفایابی، اونٹ کے آپ کو شکایت کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرنے کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی بجا آوری کے لیے درخت کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11269
(وَعَنْهُ عَنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ وَجَاءَ بَعِيرٌ فَضَرَبَ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ جَرْجَرَ حَتَّى ابْتَلَّ مَا حَوْلَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ الْبَعِيرُ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّ صَاحِبَهُ يُرِيدُ نَحْرَهُ“ فَبَعَثَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَوَاهِبُهُ أَنْتَ لِي“ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي مَالٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ قَالَ ”اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا“ فَقَالَ لَا جَرَمَ لَا أُكْرِمُ مَالًا لِي كَرَامَتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَتَى عَلَى قَبْرٍ يُعَذَّبُ صَاحِبُهُ فَقَالَ ”إِنَّهُ يُعَذَّبُ فِي غَيْرِ كَبِيرٍ“ فَأَمَرَ بِجَرِيدَةٍ فَوُضِعَتْ عَلَى قَبْرِهِ فَقَالَ ”عَسَى أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ مَا دَامَتْ رَطْبَةً“
۔(دوسری سند) یہ حدیث بھی گزشتہ حدیث کی مانند مروی ہے، البتہ کچھ تفصیل اس میںیوں ہے: ایک اونٹ نے آکر اپنا سینہ زمین پر رکھ دیا اورپھر اس نے اس قدر جھاگ نکالی کہ اردگرد کی جگہ تر ہوگئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: آیا تم جانتے ہو یہ اونٹ کیا کہہ رہاہے؟ یہ کہہ رہا ہے کہ اس کا مالک اسے ذبح کرنا چاہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے مالک کو پیغام بھیجا، جب وہ آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تم یہ اونٹ مجھے ہبہ کرتے ہو؟ اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! یہ مجھے اپنے سارے مال میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو پھر میں تمہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتاہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے اے اللہ کے رسول! میرا جس قدر بھی مال ہے، میں سب سے بڑھ کر اس کا اکرام کروں گا۔ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے، اس قبر والے کو عذاب ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے کسی مشکل کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی قبر پر ایک چھڑی رکھنے کا حکم دیا، پس وہ رکھ دی گئی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امید ہے کہ جب تک یہ تر رہے گی اس کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11269]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حبيب بن ابي جبيرة، اخرجه الطبراني في الكبير: 2/ 705، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17702»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حبيب بن ابي جبيرة


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11269 in Urdu