الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ حَنِيْنِ الْجِذْعِ لِفِرَاقِهِ ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی میں غمگین ہونے پر کھجور کے تنے کا گریہ
حدیث نمبر: 11285
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَ الْمِنْبَرَ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ وَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ حَنَّ عَلَيْهِ فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ قَالَ ”وَلَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ منبر تیار ہونے سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ستون کے قریب کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، منبر تیارہونے پر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادھر منتقل ہو گئے تو وہ تنا رونے لگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے قریب آکر اسے اپنے سینے سے لگایا تو وہ خاموش ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اسے سینے سے نہ لگاتا تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11285]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن ماجه: 1415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2236»
وضاحت: فوائد: … یہ تنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر سے متأثر تھا، جب اس نے اس ذکر کو گم پایاتو وہ رونے لگا، اللہ تعالی، اس کی علامات اور اس کے ذکر کے سلسلے میں کائنات کی ہر چیز کو شعور ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11285 in Urdu