الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب ومن معجزاته ﷺ زيادة الماء وتكثيره ببركته
یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے پانی میںاضافہ ہو گیا
حدیث نمبر: 11321
عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كَانَ فِي الْمَاءِ قِلَّةٌ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَدَحٍ أَوْ فِي جَفْنَةٍ فَنَضَحْنَا بِهِ قَالَ وَالسَّعِيدُ فِي أَنْفُسِنَا مَنْ أَصَابَهُ وَلَا نَرَاهُ إِلَّا قَدْ أَصَابَ الْقَوْمَ كُلَّهُمْ قَالَ ثُمَّ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الضُّحَى
سیدناعائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پانی تھوڑا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پیالےیا کھلے برتن میں وضو کیا، ہم نے اس سے پانی لے لے کر مختصر وضو کیا، ہم میں وہ آدمی خوش قسمت تھا، جسے اس پانی میں سے کچھ مل گیا۔ ہمارا خیال ہے کہ پانی ہر آدمی کو مل گیا تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں چاشت کے وقت نماز پڑھائی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11321]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عائذ بن عمرو، اخرجه الطبراني في الكبير: 18/ 34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20915»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس معجزہ کا بیان ہے کہ متعدد مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے پانی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا اور لوگوں نے اپنی اپنی ضرورت پوری کر لی، جبکہ اصل پانی انتہائی معمولی مقدار میں ہوتا تھا۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عائذ بن عمرو
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11321 in Urdu