الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابٌ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ آلِ بَيْتِهِ الْمُطَهَّرِينَ
اہل بیت اطہار کا ذکر خیر
حدیث نمبر: 11399
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قُرَيْشًا إِذَا لَقِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَقُوهُمْ بِبِشْرٍ حَسَنٍ وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِوُجُوهٍ لَا نَعْرِفُهَا قَالَ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا وَقَالَ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ“
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قریش جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو خندہ روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو بے رخی اور ترش روئی سے ملتے ہیں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شدید غضب ناک ہو کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کسی بھی آدمی کے دل میں ایمان اس وقت تک جاگزیں نہیں ہو سکتا، جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی کے لیے تمہارے ساتھ دلی محبت نہیں رکھے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11399]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،يزيد بن ابي زياد القرشي ضعيف، اخرجه الترمذي: 3758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1772 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1772»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11399 in Urdu