🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ الرَّابِعَةِ مِنْ أَزْوَاجِهِ ﷺ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ بِنْتِ عُمر رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چوتھی زوجہ محترمہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11448
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ وَكَانَتْ تَحْتَ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ لَقِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عُثْمَانَ فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا لِي فِي النِّسَاءِ حَاجَةٌ وَسَأَنْظُرُ فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَسَكَتَ فَوَجَدَ عُمَرُ فِي نَفْسِهِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَطَبَهَا فَلَقِيَ عُمَرُ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ فَرَدَّنِي وَإِنِّي عَرَضْتُهَا عَلَيْكَ فَسَكَتَّ عَنِّي فَلَأَنَا عَلَيْكَ كُنْتُ أَشَدَّ غَضَبًا مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ وَقَدْ رَدَّنِي فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّهُ قَدْ كَانَ ذَكَرَ مِنْ أَمْرِهَا وَكَانَ سِرًّا فَكَرِهْتُ أَنْ أُفْشِيَ السِّرَّ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا، سیدنا خنیس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، جب وہ بیوہ ہوگئیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو حفصہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کی پیش کش کی۔ لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے بیویوں کی حاجت نہیں ہے، تاہم میں اس بارے میں سوچوں گا۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملے اور انہیں بھی حفصہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کی پیش کش کی۔ لیکن وہ خاموش رہے (اور کوئی جواب ہی نہیں دیا)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے متعلق ناراضگی آگئی، اس کے بعد جلد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حفصہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کا پیغام بھیج دیا، اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے جا کر ملے اور کہا: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو حفصہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کی پیش کش کی تھی تو انہوں نے انکار کر دیا تھا، اس کے بعد میں نے آپ کو حفصہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کی پیش کش کی تو آپ خاموش رہے اور مجھے واپسی جواب تک نہ دیا۔ تو مجھے عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ آپ پر غصہ آیا، کیونکہ انہوں نے واضح طور پر انکار تو کر دیا تھا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا:دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا تذکرہ کیا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ بات ابھی تک راز تھی، اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز کو افشاء کرنا جائز نہ سمجھا۔ (اور خاموش رہا)۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11448]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4005، 5122، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4807»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4005


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11448 in Urdu