🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا وَأَنَّهَا مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَهَجَرَ النَّبى ﷺ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ ثَلاثَةَ أَشْهُرٍ مِنْ أَجْلِهَا
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے فضائل اور اس کا بیان کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں، نیز اس چیز کی وضاحت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے تین ماہ تک مقاطعہ کر لیا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11464
عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ إِنِّي ابْنَةُ يَهُودِيٍّ فَبَكَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ ”مَا شَأْنُكِ“ فَقَالَتْ قَالَتْ لِي حَفْصَةُ إِنِّي ابْنَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّكِ ابْنَةُ نَبِيٍّ وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ“ فَقَالَ ”اتَّقِ اللَّهَ يَا حَفْصَةُ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو یہ خبر ملی کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ یہ صفیہ تو ایک یہودی کی بیٹی ہے، اس سے وہ رونے لگ گئیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے اور وہ رہ رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: حفصہ نے میرے بارے میں کہا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو ایک نبی کی بیٹی ہو، تمہارا چچا بھی نبی ہے اور تم ایک نبی کی بیوی بھی ہو، سو وہ حفصہ کس بنا پر تجھ پر فخر کرتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حفصہ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11464]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه الترمذي: 3894، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12419»
وضاحت: فوائد: … باپ سے مراد ہارون علیہ السلام، چچا سے مراد موسی علیہ السلام اور خاوند سے مراد خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے باپ کا نام حیی بن اخطب تھا، یہ بنو نضیر سے تھا، بنو نضیر لاوی بن یعقوب کی نسل سے ہیں اور پھر یہ سلسلہ ہارون بن عمران علیہ السلام تک جا پہنچتا ہے، اس طرح سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے باپ ہارون علیہ السلام قرار پائے، اور اِن کے بھائی موسی علیہ السلام تھے، پس وہ چچا قرار پائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11464 in Urdu