الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدْلِهِ ﷺ بَيْنَهُنَّ فِي كُلِّ شَيْءٍ وَطَوافِهِ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا فِي سَاعَةٍ أَوْ ضَحْوَةٍ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنی ازواج کے درمیان ہر چیز میں انصاف کرنے اور¤دن کے کسی حصہ میں سب کے ہاں چکر لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 11473
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ كَانَتْ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ر وایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، جس کا قرعہ نکلتا، اسے ساتھ لے کر جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ہر بیوی کے لئے اس کی رات اور اس کا دن تقسیم کیا کرتے تھے، لیکن سیدنا سودہ رضی اللہ عنہا اس سے مستثنیٰ تھیں، کیونکہ انہوں نے اپنا دن اور رات ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا تھا، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا تلاش کرنا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11473]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2593، 2688، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24859 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25371»
وضاحت: فوائد: … جب سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہوئیں اور ان کو یہ شبہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جدا کر دیں تو انھوں نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا یہ ہبہ قبول کر لیا،یہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا کمال حکیمانہ فیصلہ تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2593
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11473 in Urdu