الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب فى ذكر دوابه وغنمه ولقاحه وخيله وسلاحه وغير ذلك
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانورں، اونٹوں، اونٹنیوں، گھوڑوں اور اسلحہ وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 11515
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ إِنِّي لَآخِذَةٌ بِزِمَامِ الْعَضْبَاءِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْمَائِدَةُ كُلُّهَا فَكَادَتْ مِنْ ثَقْلِهَا تَدُقُّ بِعَضُدِ النَّاقَةِ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عضباء اونٹنی کی لگام تھامے ہوئے تھی کہ آپ پر سورۂ مائدہ نازل ہوئی، اس وحی کے بوجھ سے قریب تھا کہ اونٹنی کا بازو ٹوٹ جاتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11515]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 448، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28127»
وضاحت: فوائد: … عضباء کا معنی وہ اونٹنی ہے، جس کے کان کٹے ہوئے ہوں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کے کان تو کٹے ہوئے نہیں تھے، بس کسی وجہ سے اس اونٹنی کا یہی نام منقول ہوتا چلا آ رہا تھا، بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ اس اونٹنی کے کان کٹے ہوئے ہوں۔
نزولِ وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بوجھ پڑتا تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہوتے، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وزن کسی انسان پر پڑا ہوتا تو وہ بھی اس بوجھ کو محسوس کرتا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَـقِیْلًا} … یقینا ہم ضرور تجھ پر ایک بھاری کلام نازل کریں گے۔ (سورۂ مزمل: ۵)
نزولِ وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بوجھ پڑتا تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہوتے، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وزن کسی انسان پر پڑا ہوتا تو وہ بھی اس بوجھ کو محسوس کرتا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَـقِیْلًا} … یقینا ہم ضرور تجھ پر ایک بھاری کلام نازل کریں گے۔ (سورۂ مزمل: ۵)
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11515 in Urdu