الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب فى ذكر دوابه وغنمه ولقاحه وخيله وسلاحه وغير ذلك
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانورں، اونٹوں، اونٹنیوں، گھوڑوں اور اسلحہ وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 11521
عَنْ عَاصِمٍ قَالَ رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسٍ قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ
عاصم احول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک پیالہ دیکھا جس پر چاندی کا جوڑ لگا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11521]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا البخاري: 5638، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12410 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12437»
وضاحت: فوائد: … سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا حرام ہے، لیکن اگر کسی ٹوٹے ہوئے برتن کو جوڑنے کے لیےیہ دھاتیں استعمال کرنی پڑ جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے، آجکل ایسے برتن کو جوڑنے کے لیے مختلف اور سستے طریقے دستیاب ہیں، لہٰذا ان ہی کا استعمال ہونا چاہیے، اس مقصد کے لیے سونے اور چاندی کے استعمال سے بچنا چاہیے، کیونکہ اب ان کا استعمال مجبوری نہیں رہا۔
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استعمال کی چند چیزوں کا ذکر اس باب میں ہے، ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں کئی چیزیں استعمال کی ہوں گی اور اصحابِ سیر و تاریخ نے ان کا ذکر بھی ہے، لیکن اب مختلف مساجد اور عجائب گھروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام کی طرف منسوب کرکے جو چیزیں بطورِ تبرکات سجا دی گئی ہیں، ان کی نسبت کی کوئی سند نہیں ہے، بلکہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس علاقے میں رہتے تھے، اس میں ایسے تبرکات نہیں ملتے اور عرب سے دور دور کے علاقے میں پائے جاتے ہیں۔
{اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ اَفْضَلَ الصَّلوٰۃ وَازْکٰی التَّحِیَّۃِ، اَللّٰھُمَّ أَحْیِنَا عَلٰی سُنَّتِہِ وَتَوَفَّنَا عَلٰی مِلَّتِہِ وَاحْشُرْنَا فِی زُمْرَتِہِ، وَتَحْتَ لِوَائہٖوَاجْعَلْنَامِنْرُّفَقَائِہِوَاَوْرِدْنَاحَوْضَہْوَاسْقِنَا مِنَ یَّدِہِ الشَّرِیْفَۃِ شَرْبَۃً ھَنِیَئۃً مَرْیَئۃً لَا نُظْمَاُ بَعْدَھَا اَبَداً، اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّیِّنَ وَاِمَامِ الْمُرْسَلِیْنَ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَالتَّابِعِیْنَ وَتَابِعِی التَّابِعِیْنَ وَمَنْ تَبِعَ ھُدَاھُمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰییَوْمِ الدِّیْنِ، وَسَلِّمْ تَسْلِیْماً کَثِیْراً}
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استعمال کی چند چیزوں کا ذکر اس باب میں ہے، ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں کئی چیزیں استعمال کی ہوں گی اور اصحابِ سیر و تاریخ نے ان کا ذکر بھی ہے، لیکن اب مختلف مساجد اور عجائب گھروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام کی طرف منسوب کرکے جو چیزیں بطورِ تبرکات سجا دی گئی ہیں، ان کی نسبت کی کوئی سند نہیں ہے، بلکہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس علاقے میں رہتے تھے، اس میں ایسے تبرکات نہیں ملتے اور عرب سے دور دور کے علاقے میں پائے جاتے ہیں۔
{اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ اَفْضَلَ الصَّلوٰۃ وَازْکٰی التَّحِیَّۃِ، اَللّٰھُمَّ أَحْیِنَا عَلٰی سُنَّتِہِ وَتَوَفَّنَا عَلٰی مِلَّتِہِ وَاحْشُرْنَا فِی زُمْرَتِہِ، وَتَحْتَ لِوَائہٖوَاجْعَلْنَامِنْرُّفَقَائِہِوَاَوْرِدْنَاحَوْضَہْوَاسْقِنَا مِنَ یَّدِہِ الشَّرِیْفَۃِ شَرْبَۃً ھَنِیَئۃً مَرْیَئۃً لَا نُظْمَاُ بَعْدَھَا اَبَداً، اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّیِّنَ وَاِمَامِ الْمُرْسَلِیْنَ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَالتَّابِعِیْنَ وَتَابِعِی التَّابِعِیْنَ وَمَنْ تَبِعَ ھُدَاھُمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰییَوْمِ الدِّیْنِ، وَسَلِّمْ تَسْلِیْماً کَثِیْراً}
الحكم على الحديث: أخرجه مطولا البخاري: 5638
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11521 in Urdu