الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ ذِكْرِ مَنَاقِبِهِمْ عَلَى الإِجْمَالِ
صحابۂ کرام کے مناقب کا اجمالی تذکرہ
حدیث نمبر: 11525
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ أَذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ“
سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، تم میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، تم میرے بعد انہیں سب وشتم اور طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنانا، پس جس نے ان سے محبت کی، تو دراصل اس نے میری محبت کی بنا پر ان سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو درحقیقت اس نے میرے ساتھ بعض کی بنا پر ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو ایذاء دی، اس نے دراصل مجھے ایذاء پہنچائی، جس نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی اور جس نے اللہ کو دکھ پہنچایا تو اللہ عنقریب اس کا مؤاخذہ کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11525]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن بن زياد او عبد الرحمن بن عبد الله، اخرجه الترمذي: 3862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20854»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن بن زياد او عبد الرحمن بن عبد الله
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11525 in Urdu