الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ ذِكْرِ مَنَاقِبِهِمْ عَلَى الإِجْمَالِ
صحابۂ کرام کے مناقب کا اجمالی تذکرہ
حدیث نمبر: 11528
عَنْ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ“
سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کا قتل ہو جانا ہی کافی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11528]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 92، والبزار: 3263، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15971»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی صحابی سے خطا ہو جائے اور وہ فتنوں کے دور کے قتال میں شریک ہو جائے اور پھر وہ اس لڑائی میں قتل ہو تو اس کا قتل اس کے لیے کفارہ ہو گا۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک شاہد ذکر کرتے ہوئے کہا: سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب فتنے ہوں گے، ان میں بہت کچھ ہو گا۔ ہم نے کہا:اگر ہم نے یہ زمانہ پایا تو ہم تو ہلاک ہو جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کے لیے قتل کا فتنہ ہی کافی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ان فتنوں میں لوگ جلدی جلدی فنا ہوں گے۔ (طبرانی، بزار) (صحیحہ: ۱۳۴۶)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک شاہد ذکر کرتے ہوئے کہا: سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب فتنے ہوں گے، ان میں بہت کچھ ہو گا۔ ہم نے کہا:اگر ہم نے یہ زمانہ پایا تو ہم تو ہلاک ہو جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کے لیے قتل کا فتنہ ہی کافی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ان فتنوں میں لوگ جلدی جلدی فنا ہوں گے۔ (طبرانی، بزار) (صحیحہ: ۱۳۴۶)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11528 in Urdu