الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيْهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وعلي رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں مشترک ہیں
حدیث نمبر: 11574
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ ”يَا عَلِيُّ هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَشَبَابِهَا عَدَا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھا کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! یہ دونوں جنتی بزرگوں اور نوجوانوں کے سردار ہوں گے، ماسوائے انبیاء و رسل کے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11574]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الترمذي: 3666،وابن ماجه: 95، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 602 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 602»
وضاحت: فوائد: … کُھُوْل کا واحد کَھْل ہے، جو آدمی اپنی عمر کے تیسیا چونتیس برس سے اکاون برس کے درمیان ہوتا ہے، اس کو کَھْل کہتے ہیں، ہم نے اس لفظ کا معنی بزرگ کیا ہے۔ جنت میں تو ہر ایک کو ایک ہی عمر کی نوجوانی ملے گی، اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ جو افراد بزرگی اور نوجوانی کی عمر میں وفات پا کر جنت میں جائیں گے، ان کے سردار سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہوں گے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11574 in Urdu