الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ فَضْلٍ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَّةَ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 11604
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ عِدَّةَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ يَوْمَ جَالُوتَ ثَلَاثَ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ الَّذِينَ جَاوَزُوا مَعَهُ النَّهْرَ قَالَ وَلَمْ يُجَاوِزْ مَعَهُ النَّهْرَ إِلَّا مُؤْمِنٌ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ بدر والے دن صحابۂ کرام کی تعداد اتنی تھی، جتنی جالوت والے دن طالوت کے ساتھیوں کی تھی،یعنی تین سو چودہ پندرہ افراد تھے، جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہرکو عبور کیا تھا اور نہر سے گزر جانے والے صرف مؤمن تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11604]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3958، 3959، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18754»
وضاحت: فوائد: … موسی علیہ السلام کی وفات کے کچھ عرصہ بعد بنو اسرائیل کے مطالبے پر طالوت کو بادشاہ بنایا گیا، لیکن بنو اسرائیل نے اپنی عادت کے مطابق ان کی بادشاہت پر اعتراض کرنا شروع کر دیے، دوسرے پارے کے آخر میں اسی بادشاہ کا ذکر ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3958
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11604 in Urdu