الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11638
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخَذَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِيَدِي مَقْدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَتَتْ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ابْنِي وَهُوَ غُلَامٌ كَاتِبٌ قَالَ فَخَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ قَطُّ صَنَعْتُهُ أَسَأْتَ أَوْ بِئْسَ مَا صَنَعْتَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ منورہ میں تشریف آوری ہوئی تو میری والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا میرا ہاتھ پکڑے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور کہا: اللہ کے رسول! میرایہ بیٹا لکھنا پڑھنا جانتا ہے۔ (اسے اپنی خدمت کے لیے قبول فرمائیں) چنانچہ میں نے آپ کی نو برس تک خدمت کی، میں نے کوئی کام کیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی مجھ سے یوں نہ فرمایا کہ تونے برا کام کیا ہے، یا تو نے غلط کام کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11638]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2768، 6911،ومسلم: 2309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12251 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12276»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2768
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11638 in Urdu