الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11668
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نِمْتُ فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِئٍ يَقْرَأُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ“ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَذَاكَ الْبِرُّ كَذَاكَ الْبِرُّ“ وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سو گیا اور میں نے خواب میں اپنے آپ کو جنت میں دیکھا اور میں نے وہاں قرآن پڑھتے ایک آدمی کی آواز سنی، میں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتلایا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کے حق میں فرمایا: حسن سلوک کا یہی انجام ہوتا ہے، حسن سلوک کا یہی انجام ہوتا ہے۔ یہ صحابی لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11668]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه النسائي في الكبري: 8233، وعبد الرزاق: 20119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25337 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25851»
وضاحت: فوائد: … واقعی ماؤںکے قدموں تلے جنت ہے، سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ نے اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی قدر کی اور ایسا مرتبہ عطا کیا کہ جنت میں ان کی قرآن کی تلاوت کرنے کی آواز آرہی تھی۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11668 in Urdu