الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَان رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11674
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي حُسَيْلُ فَأَخَذَنَا كُفَّارُ قُرَيْشٍ فَقَالُوا إِنَّكُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا قُلْنَا مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ فَأَخَذُوا مِنَّا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَى الْمَدِينَةِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ فَقَالَ ”انْصَرِفَا نَفِي بِعَهْدِهِمْ وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ بدر میں ہماری عدم شرکت کی وجہ یہ ہوئی کہ میں اور میرا والد سیدنا حسیل رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ قریشی کفار نے ہمیں گرفتار کر لیا، انھوں نے کہا کہ تم لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جا رہے ہو۔ ہم نے کہا کہ ہم تو مدینہ کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے ہم سے اللہ کی قسم اور پختہ عہد لیا کہ ہم مدینہ کی طرف جائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر ان کے خلاف لڑائی میں حصہ نہ لیں۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر سارا واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں چلے جاؤ، ہم ان سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ کی مدد کے خواستگار ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11674]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1787، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23746»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! یہ عہد کی پاسداری ہے کہ دشمن سے کیا ہوا اس قسم کا عہد و پیمان بھی پورا کیا جا رہا ہے، کاش ہم بھی اسلام کے حسن کو سمجھ جاتے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1787
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11674 in Urdu