🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. بَابُ مَا جَاءَ فِي خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتِ الْأَنْصَارِي صَاحِبِ الشَّهَادَتَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
دگنی گواہی والے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11694
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ لَمَّا كُتِبَتِ الْمَصَاحِفُ فَقَدْتُ آيَةً كُنْتُ أَسْمَعُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهَا عِنْدَ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا} [الأحزاب: 23] قَالَ فَكَانَ خُزَيْمَةُ يُدْعَى ذَا الشَّهَادَتَيْنِ أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَقُتِلَ يَوْمَ صِفِّينَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب قرآن کریم کے مصاحف لکھے جا رہے تھے تو میں نے ایک آیت گم پائی، میں خود اس آیت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کرتا تھا، وہ مجھے کسی کے ہاں سے لکھی ہوئی نہیں مل رہی تھی، آخر کار وہ مجھے سیدنا خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں سے لکھی ہوئی ملی، وہ آیت یہ تھی:{مِنَ الْمُؤمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَاعَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا۔} … اہل ایمان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے عہدو پیمان کو خوب پورا کیا اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنے مقصد اور منزل کو پاگئے اور بعض حصول منزل کے منتظر ہیں اور انہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد میں تبدیلی بالکل نہیں کی۔ (سورۂ احزاب: ۲۳) سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ ذوالشھادتین یعنی دو گواہیوں والے کہلاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان اکیلے کی گواہی کو دو گواہیوں کے برابر قرار دیا تھا۔ زہری کہتے ہیں کہ وہ صفین کے موقعہ پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں قتل ہوئے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11694]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2807، 7191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21991»
وضاحت: فوائد: … اس باب سے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کی عظمت، فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کی پختگی واضح ہوتی ہے کہ ایک معاملے میں وہ حاضر نہ تھے، لیکن محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق و ایمان کی بنیاد پر وہ گواہ بن گئے اور یہ نقطہ صرف ان کے ذہن میں آیا اور اللہ تعالیٰنے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ان کو یہ اعزازبخشا کہ ان اکیلے کی گواہی کو دو گواہیوں کے برابر قرار دیا گیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2807


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11694 in Urdu