الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب ما جاء فى سعد بن أبى وقاص ويقال له أيضا: سعد بن مالك رضى الله عنه
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، ان کو سعد بن مالک رضی اللہ عنہ بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 11718
حَدَّثَنَا قَيْسٌ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَقَدْ أَتَيْنَا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا طَعَامٌ نَأْكُلُهُ إِلَّا وَرَقَ الْحُبْلَةِ وَهَذَا السَّمُرُ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ مَا لَهُ خِلْطٌ ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ يُعَزِّرُونِي عَلَى الدِّينِ لَقَدْ خِبْتُ إِذَنْ وَضَلَّ عَمَلِي
سیدنا سعد بن مالک یعنی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سب سے پہلا عرب ہوں، جس کو اللہ کی راہ میں سب سے پہلے تیر برسانے کی سعادت نصیب ہوئی، میں نے صحابہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس حال میں بھی دیکھا ہے کہ ہمارے پاس کھانے کے لیے خاردار درختوں کے پتوں اور ببول کے درخت کے سوا کچھ نہ تھا، ہم قضائے حاجت کو جاتے تو بکریوں کی طرح مینگنیاں کرتے، فضلہ کے ساتھ کسی قسم کی آلائش نہ ہوتی (یعنی بالکل خشک فضلہ ہوتا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ۱ھ میں ایک سریہ روانہ کیا۔ مقصد قریشی تجارتی قافلہ پر حملہ تھا۔ اس میں دونوں طرف سے تیروں کا تبادلہ ہوا۔ سعد اس سریہ میں شامل تھے اور سب سے پہلے انہوں نے تیر چلایا تھا، جس کا وہ اس حدیث میں تذکرہ کر رہے ہیں۔ فتح الباری: ص ۸۲۔ (عبداللہ رفیق) تھا)۔ اب بنو اسد کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ دین کے بارے میں مجھ پر طنز کرتے ہیں، اگر ان کا طنز حقیقت پر مبنی ہوتو میں تو خسارے میں رہا اور میرے اعمال برباد ہوگئے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11718]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5412،ومسلم: 2966، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1618»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5412
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11718 in Urdu