الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ اسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهَا إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِهِ
نمازِ عشاء کو ایک تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1173
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ إِمَامًا أَوْ خِلْوَةً؟ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: الصَّلَاةَ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ، فَقَالَ: ( (لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَٰكَذَا) )
ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عطا سے کہا: تم کو وہ کون سا وقت پسند ہے کہ جس میں میں نمازِ عشاء باجماعت یا منفرد ادا کروں؟ انھوں نے کہا: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک رات رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشاء کی ادائیگی میں تاخیر کی، یہاں تک کہ لوگ سو گئے اور پھر بیدار ہوئے، پس سیدنا عمر ؓکھڑے ہوئے اور کہا: (اے اللہ کے رسول!) نماز، پس اللہ کے نبی نکلے، گویا کہ میں اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر کی ایک جانب ہاتھ رکھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو ان کو حکم دیتا کہ وہ یہ نماز اس وقت میں نماز پڑھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1173]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 571، ومسلم: 642، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3466 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3466»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 571
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1173 in Urdu