الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. باب ما جاء فى عبد الله بن عمر بن الخطاب رضى الله عنهما
سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11804
عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ بِيَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ وَلَا أُشِيرُ بِهَا إِلَى مَكَانٍ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”إِنَّ أَخَاكَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک خواب دیکھا کہ گویا میرے ہاتھ میں ریشم کا ایک قیمتی ٹکڑا ہے اور میں جنت میں جس طرف بھی اس سے اشار ہ کرتا ہوں وہ مجھے اپنے ساتھ اڑا کر ادھر ہی لے جاتا ہے۔ میری بہن ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان کا یہ خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تمہارا بھائی عبد اللہ نیک اور صالح آدمی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11804]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1156، 7015،ومسلم: 2478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4494»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ماں سیدہ زینب بنت مظعون رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہجرت کی، غزوۂ بدر اور غزوۂ احد کے بعد تمام غزوات میں شریک ہوئے، غزوۂ احد میں ان کو چھوٹا سمجھ کر شرکت کی اجازت نہیں ملی تھی، جب یہ غزوۂ خندق میں شریک ہوئے اس وقت ان کی عمر پندرہ برس تھی،یہ ایک مجتہد عالم دین تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے انتہائی پابند، امت کے خیرخواہ اور بدعت سے بہت دور رہنے والے تھے، اسلام میں ساٹھ برس تک انھوں نے دینی خدمات سر انجام دیں۔ امام نافع نے ان کا بہت علم نشر کیا، (۷۳) سن ہجری کے آخریا (۷۴) سن ہجری کے شروع میں انتقال کر گئے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1156
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11804 in Urdu