الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. باب ما جاء فى عبد الله بن عمرو بن العاص رضى الله عنهما
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11818
عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْزِيِّ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي رَأْسِ عَمَّارٍ يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِيَطِبْ بِهِ أَحَدُكُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“ قَالَ مُعَاوِيَةُ فَمَا بَالُكَ مَعَنَا قَالَ إِنَّ أَبِي شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَطِعْ أَبَاكَ مَا دَامَ حَيًّا وَلَا تَعْصِهِ“ فَأَنَا مَعَكُمْ وَلَسْتُ أُقَاتِلُ
حنظلہ بن خویلد عنبری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر تھا کہ دو آدمیوں نے ان کے ہاں آکر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے سر کے بارے میں جھگڑنا شروع کر دیا، ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے ان کو قتل کیا ہے،ان کی باتیں سن کر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے ہر ایک اپنے اس کارنامے پر اپنا دل خوش کر لے، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ باغی گروہ اسے قتل کرے گا۔ ان سے یہ حدیث سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر یہ بات ہے توپھر آپ ہمارا ساتھ کیوں دیتے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا: میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری شکایت کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایاتھا: تمہارا والد جب تک زندہ ہے، تم اس کی اطاعت کرتے رہو۔ اس حدیث کی وجہ سے میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں، لیکن پھر بھی لڑائی میں حصہ نہیں لیتا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11818]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 291، والنسائي في خصائص علي: 164، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6929 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6929»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11818 in Urdu