🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. بَابُ مَا جَاءَ فِي عُثْمَانَ بْنِ مَطْعُونَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11840
عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ لَمَّا قُبِضَ قَالَتْ أُمُّ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ طِبْتَ أَبَا السَّائِبِ خَيْرُ أَيَّامِكَ الْخَيْرُ فَسَمِعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”مَنْ هَذِهِ“ قَالَتْ أَنَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَمَا يُدْرِيكِ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَجَلْ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ مَا رَأَيْنَا إِلَّا خَيْرًا وَهَذَا أَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يُصْنَعُ بِي“
خارجہ بن زید اپنی والدہ سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے کہا::اے ابو السائب! تمہیں مبارک ہو، تمہارے ایام زندگی اچھے گزرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات سنی تو فرمایا: یہ بات کہنے والی کون ہے؟ سیدہ ام علاء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: جی میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس بات کا کیا علم؟‘ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ بات سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ (جیسے عظیم الترتیب انسان کے بارے میں کہی ہے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہا ں ہاں، ہم نے عثمان بن مظعون کو ہر لحاظ سے بہتر پایا،یاد رکھو کہ میں اگرچہ اللہ کا رسول ہوں، لیکن میں اپنے بارے میں یہ بھی نہیں جانتا کہ کل کلاں میرے ساتھ کیا معاملہ پیش آئے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11840]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير: 4879، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28006»
وضاحت: فوائد: … وحی کے بغیر کسی نیک سے نیک تر انسان کی کامیابی اور برے سے بدتر انسان کی ناکامی کی شہادت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ نیک اور برے اعمال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے قوانین کو کوئی نہیں سمجھ سکتا، البتہ نیک آدمی کے بارے میں حسن ظن اور اچھا گمان رکھا جا سکتا ہے۔
ام خاجہ اور ام العلاء سے ایک ہی عورت مراد ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11840 in Urdu