الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. باب ما جاء فى عدي بن حاتم الطائي رضى الله عنه
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11844
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِي فَجَعَلَ يَفْرِضُ لِلرَّجُلِ مِنْ طَيِّئٍ فِي أَلْفَيْنِ وَيُعْرِضُ عَنِّي، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنْ حِيَالِ وَجْهِهِ فَأَعْرَضَ عَنِّي، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: فَضَحِكَ حَتَّى اسْتَلْقَى لِقَفَاهُ ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ وَاللَّهِ! إِنِّي لَأَعْرِفُكَ، آمَنْتَ إِذْ كَفَرُوا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا، وَوَفَيْتَ إِذْ غَدَرُوا، وَإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَةُ عَدِيٍّ جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَخَذَ يَعْتَذِرُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِهِمُ الْفَقْرُ وَهُمْ سَادَةُ عَشَائِرِهِمْ لِمَا يَنُوبُهُمْ مِنَ الْحُقُوقِ
سیدنا عدی بن خاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی قوم کے کچھ افراد کے ساتھ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے بنو طی ٔ کے ہر ہر فرد کو دو دو ہزار دیئے اورمجھ سے اعراض کیا، پھر میں ان کے سامنے آیا، لیکن انھوں نے بے رخی اختیار کی، پھر میں بالکل ان کے چہرے کے سامنے آیا، تب بھی انہوں نے مجھ سے اعراض کیا، بالآخر میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟یہ بات سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس قدر ہنسے کہ گدی کی بل لیٹ گئے اور پھر کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میں تمہیں پہچانتا ہوں، تم اس وقت ایمان لائے تھے جب یہ لوگ کفر پر ڈٹے ہوئے تھے، تم اس وقت اسلام کی طرف متوجہ ہوئے تھے جب ان لوگوں نے پیٹھ کی ہوئی تھی اور تم نے اس وقت وفاداری دکھائی، جب یہ لوگ غداری کر رہے تھے اور میں جانتا ہوں کہ سب سے پہلا صدقہ، جس نے نبی کریم اور صحابہ کے چہرے روشن کر دیئے تھے، وہ تو عدی کا صدقہ تھا، جو تم رسول اللہ کے پاس لے کر آئے تھے، بعد ازاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عدی سے معذرت کی اور کہا: میں نے ان لوگوں کو اس لئے دیا ہے کہ یہ لوگ آج کل فاقوں سے دو چار ہیں، جبکہ یہ اپنے اپنے قبیلوں کے سردار بھی ہیں اور ان پر کافی ساری ذمہ داریاں ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11844]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4394، ومسلم: 2523، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 316»
وضاحت: فوائد: … کتنی قابل غور بات ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کی خوبیوںکے معترف بھی ہیں اور وہ بار بار اِن کے سامنے اس مقصد سے آ رہے ہیں کہ ان کو بھی کچھ مال ودولت دے دیا جائے، لیکن ان دو چیزوں کے باوجود ان کو کچھ بھی نہیں دیا جا رہا، کیونکہ بڑی مصلحت اور منفعت اس میں تھی کہ دوسرے لوگوں میں مال تقسیم کر دیا جائے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4394
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11844 in Urdu